اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عمار حکیم نے صوبہ دیوانیہ کے دورے کے دوران عراق میں استحکام اور ترقی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک مضبوط ریاست کے قیام کے لیے ملک میں ہتھیاروں کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہونا ضروری ہے۔
بدھ کے روز دیوانیہ کے گورنر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمار حکیم نے صوبے کی معاشی صلاحیتوں کا ذکر کیا اور دیوانیہ کو عراق کا زرعی مرکز بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں زرعی شعبے کے علاوہ صنعتی، سیاحتی اور تیل کے شعبوں میں بھی وسیع امکانات موجود ہیں اور یہ علاقہ وسطی فرات کے خطے میں ایک اہم معاشی مرکز بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترقی کا براہِ راست تعلق استحکام سے ہے، کیونکہ استحکام کے بغیر ترقی ممکن نہیں اور استحکام ایک مضبوط حکومت کے ذریعے ہی قائم کیا جا سکتا ہے۔ ایسی حکومت ضروری ہے جس کے پاس ملک میں ہتھیاروں کا مکمل اختیار ہو اور وہ بدعنوانی کے خلاف بھی سنجیدگی سے کارروائی کرے۔
عمار حکیم نے عراق میں بین الاقوامی اتحاد کے مشن کے 30 ستمبر کو اختتام اور ملک میں ہتھیاروں کو ریاست کے اختیار میں لانے کے لیے حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عراق نے ماضی میں ایسے گروہوں کا سامنا کیا جنہوں نے داعش کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا، قربانیاں دیں اور شہادتیں پیش کیں، تاہم اب وقت آگیا ہے کہ ہتھیاروں کو ریاست کے اختیار میں رکھنے کے معاملے کو سنجیدہ اور تعمیری مذاکرات کے ذریعے منظم کیا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ رابطہ کمیٹی کے فریم ورک کے تحت مسلح گروہوں سے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور ان مذاکرات کے لیے ماحول مثبت ہے۔ ان کے مطابق مسلح گروہ عراق، ملکی سلامتی، معیشت، خارجہ تعلقات اور ایک مضبوط ریاست کے قیام کے حوالے سے اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہیں۔
عمار حکیم نے زور دیا کہ ہتھیاروں سے متعلق مسائل کو مخلصانہ، سنجیدہ اور تعمیری مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عراق کی زیادہ تر برآمدات کا انحصار اس راستے پر ہے، اس لیے آبنائے ہرمز کی بندش عراقی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ انہوں نے معیشت کو متنوع بنانے اور تیل کی آمدنی پر انحصار کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
دوسری جانب دیوانیہ کے گورنر نے عراق کی حکومت اور پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور 2027 کے بجٹ کے تحت درکار مالی وسائل کی فراہمی کے لیے تعاون کیا جائے۔
آپ کا تبصرہ